Monday, May 7, 2012

جانے والا

وہ جو آیا تھا جانے والا تھا
یعنی وہ بھی زمانے والا تھا

میں نے کوزے سنبھال رکھے تھے
وقت دریا بہانے والا تھا

ایک گزرے سمے کے منظر میں
 میں اسے یاد آنے والا تھا

شور تھا سانس کے جزیروں میں
 دل کوئی گیت گانے والا تھا

لہلہاتی تھی روشنی مجھ میں
 وہ کہیں  مسکرانے والا تھا

دھوپ تھی عکس کی منڈیروں پر
آئینہ ٹوٹ جانے والا تھا

لو دھڑکتی تھی خوابنائےمیں
 کوئی مجھ کو جگانے والا تھا

سانس لینے لگی تھی ویرانی
 ہاتھ ہاتھوں سے جانے والا تھا

No comments:

Post a Comment