وہ جو آیا تھا جانے والا تھا
یعنی وہ بھی زمانے والا تھا
میں نے کوزے سنبھال رکھے تھے
وقت دریا بہانے والا تھا
ایک گزرے سمے کے منظر میں
میں اسے یاد آنے والا تھا
شور تھا سانس کے جزیروں میں
دل کوئی گیت گانے والا تھا
لہلہاتی تھی روشنی مجھ میں
وہ کہیں مسکرانے والا تھا
دھوپ تھی عکس کی منڈیروں پر
آئینہ ٹوٹ جانے والا تھا
لو دھڑکتی تھی خوابنائےمیں
کوئی مجھ کو جگانے والا تھا
سانس لینے لگی تھی ویرانی
ہاتھ ہاتھوں سے جانے والا تھا
یعنی وہ بھی زمانے والا تھا
میں نے کوزے سنبھال رکھے تھے
وقت دریا بہانے والا تھا
ایک گزرے سمے کے منظر میں
میں اسے یاد آنے والا تھا
شور تھا سانس کے جزیروں میں
دل کوئی گیت گانے والا تھا
لہلہاتی تھی روشنی مجھ میں
وہ کہیں مسکرانے والا تھا
دھوپ تھی عکس کی منڈیروں پر
آئینہ ٹوٹ جانے والا تھا
لو دھڑکتی تھی خوابنائےمیں
کوئی مجھ کو جگانے والا تھا
سانس لینے لگی تھی ویرانی
ہاتھ ہاتھوں سے جانے والا تھا
No comments:
Post a Comment