Monday, January 30, 2012

سائیں وے


سائیں وے !توں باغاں ورگا راز
گیتاں ورگے رکھ نے تیرے
پتر جیویں ساز   

سائیں وے ! میں پھردی کلم کلّی
کوئی نہ چلّے نال مرے تے 
لوکی آکھن جهلی

سائیں وے !میں لیراں لیراں چولا 
ناں کوئی مینوں پاوندا تن تے 
ناں میں اڑن کھٹولا 

سائیں وے ! دل کیتے کی کی کھیکھن
کنداں وچوں اکھیاں لبھدا 
جیہڑیاں تینوں ویکھن 

سائیں وے ! میں ڈھیر غماں دا ڈھواں
دل کردا میں بوھے اگے 
کوکاں مار کے روواں

سائیں وے ! میں اندروں اندر خالی 
ناں کوئی باغ اے جثے اندر 
ناں کوئی میرا مالی 

سائیں وے ! میں ہجر سرہانے پالا
کالک ملی منہ دے اتے 
سینہ اندروں گالا 

سائیں وے ! میں گیت برہوں دا گاواں
جھاڑو پھیرا ں ویہڑے تیرے 
یاداں چںردی جاواں

 سائیں وے ! میں  لہو دی دھوڑ کھلاری 
اپنا سایہ لبھدی پھردی
میں حیرت دی ماری 

سائیں وے  !میں اکھیاں ریت بھرایاں
انھی ہو کے واجاں ماراں
سائیاں ،سائیاں،سائیاں 

Tuesday, January 17, 2012

وحشت


نجانے کون سی وحشت سے بھر گیا ہوں میں 
گل سفید کو چھوتے ہی ڈر گیا ہوں میں 


کہیں دکھائی نہیں دے رہا ہوں خود کو بھی 
تمہاری حد سے نکل کر کدھر گیا ہوں میں 


تمام عمر یہی اک گلہ رہا خود سے
تمام فیصلے عجلت میں کر گیا ہوں میں 


سفر سفر کوئی رہتا تھا ساتھ ساتھ مرے 
مگر یہ شام کہ تنہا ہی گھر گیا ہوں میں 


مراجعت پہ تہی دست ہوں مگر خوش ہوں 
گل دعا تری چوکھٹ پہ دھر گیا ہوں میں 


بدن کے قصر ملامت سے دور جاتے ہوے
تری طرف ہی گیا ہوں اگر گیا ہوں میں


اسے پکار رہا ہوں بڑے تسلسل سے
یہ اور بات کہ بیحد بکھر گیا ہوں میں


دھلی ہوئی تھی سڑک خامشی کی بارش میں 
"میں خود سے پوچھ رہا تھا ''ادھر گیا ہوں میں  


مجھے یقین ہے ،شاید، نہیں یقین مجھے 
میں مر رہا ہوں ،نہیں یار ! مر گیا ہوں میں 

Friday, January 6, 2012

کمرہ


اک کمرہ ہے 
اک خستہ بوسیدہ کمرہ
جسکی دیواروں پر چسپاں  
ٹوٹے خوابوں کی تصویریں  
تنہائی کو سینچ رہی ہیں 
خاک پہ لتھڑے فرش پہ لیٹی
صدیوں کے ابہام کی چادر  
گھور رہی ہے 
کونے میں احساس  کے ٹوٹے پھوٹے برتن 
گزرے وقت کی راکھ سمیٹے چپ بیٹھے ہیں 
الماری میں یادوں کی دو چار کتابیں پڑی ہوئی ہیں 
جن کو ہجر کی کالی دیمک رفتہ رفتہ چاٹ رہی ہے 
میز پہ رکھی لفظ کی گٹھڑی 
جس میں بند غموں کے نشتر  
اب تک سانس لئے جاتے ہیں 
بے تابی کے جالے بنتی 
وقت کی مکڑی 
دیواروں پر رینگ رہی ہے 
اشکوں کے دریا میں ڈوبا سانس کا تکیہ بھیگ رہا ہے 
ایک  ضعیف دعا کا پنکھا 
چھت پر اب بھی جھول رہا ہے 
بچپن کے صندوق میں بکھرے خواب کے کپڑے 
تعبیروں کے لمس کی خاطر 
درد کا گردا پھانک رہے ہیں 
روشن مستقبل کی کھڑکی 
اک عرصے سے بند پڑی ہے 
جبکہ دروازے پر لٹکا 
بن چابی کے 
خاموشی کا کالا تالہ
آس لگائے دیکھ رہا ہے !!... 
خوشیوں کے گمنام مسافر کب لوٹیں گے 
کب لوٹیں گے