Sunday, December 18, 2011

ہمارے بس میں

ہمارے بس میں کیا ہے اور ہمارے بس میں کیا نہیں
جہان۔ ہست و بود میں کسی پہ کچھ کھلا نہیں


حضور۔ خواب دیر تک،کھڑا رہا سویر تک
نشیب۔قلب و چشم سے گزر ترا ہوا نہیں


نظر میں اک چراغ تھا،بدن میں ایک باغ تھا
چراغ و باغ ہو چکے ،کوئی رہا ؟ رہا نہیں


اجڑ گئیں حویلیاں ،چلی گئیں سہیلیاں
دلا ! تری قبیل سے کوئی بھی اب بچا نہیں


ہوس کی  رزم گاہ میں ،بدن کی کارگاہ میں
وہ شور  تھا کہ دور تک کسی نے کچھ  سنا نہیں


نجانے کتنے یگ ڈھلے،نجانے کتنے دکھ پلے
گھروں میں ہانڈیوں تلے ،کسی کو کچھ پتہ نہیں


وہ پیڑ جسکی چھاؤں میں،کٹی تھی عمر گاؤں میں
میں چوم چوم تھک گیا،مگر یہ دل بھرا نہیں

خواب


خواب سے اور خواب کی پرواز سے
آنکھ واقف ہی نہیں اس راز سے

بالیاں کانوں کی آخر رو پڑیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بج رہے تھے آئینے میں ساز سے

مجھ ورق پہ لکھ دیا حرف۔ سکوت
دست۔غیبی نے کسی آواز سے

اے مرے کمرے کی چھت، یوں گھور مت
بات کوئی کر دل۔ ناراض سے۔۔۔۔۔۔۔۔

ان بہشت آثار انکھوں مین کہیں۔۔۔۔
دفن کر اس خاک کو اعزاز سے

کچھ اپنوں کے نام


وہ نگہ جب مجھے پکارتی تھی
دل کی حیرانیاں ابھارتی تھی

اپنی نادیدہ انگلیوں کے ساتھ
میرے بالوں کو وہ سنوارتی تھی

روز میں اسکو جیت جاتا تھا
اور وہ روزخود کو   ہارتی تھی

پتیاں مسکرانے لگتی تھیں
شاخ سے پھول جب اتارتی تھی

جن دنوں میں اسے پکارتا تھا
ایک دنیا مجھے پکارتی تھی

صحن میں چھاؤں تھی درختوں کی
جو مری شاعری نکھارتی تھی

بارگاہوں میں غسل گریہ سے
روح اپنی تھکن اتارتی تھی

اک لگن تھی،چبھن تھی جو بھی تھی
روز سینے میں دن گزارتی تھی

غزل 6


مانوس جبینوں کے نام


بیقراروں کی طرح اور سوگواروں کی طرح 
وہ نگاہیں لگ رہیں تھی آبشاروں کی طرح 

اب وہاں پر کوئی کھڑکی کوئی دروازہ نہ تھا 
شور تھا چڑیوں کا گھر میں یادگاروں کی طرح 

میں درختوں کی طرح سہما کھڑا تھا دشت میں 
کوئی مجھکو دیکھتا تھا کوہساروں کی طرح 

دل کی ویرانی مسلسل دستکیں دیتی رہی  
میں نے دروازہ نہ کھولا اپنے یاروں کی طرح 

خود کو اپنی آنکھ سے کل رات میں دیکھا کیا  
دور سے میں لگ رہا تھا ریگزاروں کی طرح 

اسکے قدموں کا فقط اک لمس تھا جسکے طفیل 
ریت کے ذرے چمکتے تھے ستاروں کی طرح 

باغ نادیدہ کھلے گا آخرش ہم پر کبھی 
منظر خوش رنگ وا ہوگا سپاروں کی طرح 

غزل براے احباب دل


 رائیگاں جسم کی شریعت سے
تھک گیا ہوں میں اس ریاضت سے 

میری آواز کیوں نہیں آتی 
چیخ اٹھتا ہوں جب مسرّت سے 

راستہ مل گیا حویلی کا 
اپنے ہونے کی ایک صورت سے 

دل نے دنیا خرید لینی تھی 
سانس لیتا اگر سہولت سے 

میں بھی کتنا عجیب دکھتا ہوں 
آج دیکھا ہے خود کو حیرت سے 

"ہاے وہ لوگ خوبصورت لوگ " 
جن کو دیکھا نہیں ہے مدت سے

آنکھ کھلنے لگی زمینوں کی 
گندمی دھوپ کی تمازت سے 

رنگ جاگے سفید آنکھوں میں 
شاخ پر پھول کی تلاوت سے 

جس محبّت سے پیڑ دیکھتے ہیں 
کوئی دیکھے تو اس محبّت سے 

یہ پرندے یہ ہجرتوں کے سفیر 
اڑ رہے ہیں فقط ضرورت سے 

گرتے جاتے ہیں پھول مٹی پر 
کوئی چنتا نہیں عقیدت سے 

کار دیگر تمام کرتے ہیں 
آج روتے ہیں پوری شدّت سے 

دیکھئے ،اک نظر تو دیکھئے نا
بجھ رہا ہوں میں کس اذیّت سے 

بس دلا ،آخری کلام،سلام 
تنگ آیا میں تجھ مصیبت سے 

یاد کا خیمہ


گزشت و رفت کے مابین کیا دیا گیا ہے 
نئے غبار کا حصّہ  بنا  دیا  گیا ہے 

ہمارے خواب ہمارے نہیں رہے مرے دوست 
سو دست چشم میں کاسہ تھما دیا گیا ہے 

عجیب جنگ ہے چھڑنے سے قبل ہی مجھکو
مری شکست کا منظر دکھا دیا گیا ہے

دل۔ حزیں تری حیران و خشک مٹی پر
کسی کی یاد کا خیمہ لگا دیا گیا ہے

وجود مجھ کو عدم کی مثال لگنے لگا
یہ کیسی نیند سے مجھکو جگا دیا گیا ہے

سحر گزیدہ چراغوں سے پوچھنا ہے مجھے
یہ کس چراغ سے سورج جلا دیا گیا ہے

دلا!! قبول ترے فیصلے قبول مجھے
مگر وہ غم کہ جو تجھ سے سوا دیا گیا ہے

یہ دشت  جاں ہے کہ سیراب ہی نہیں ہوتا 
اگرچہ آنکھ سے دریا بہا دیا گیا ہے

دستک


نئے گھرانے بسا رہے تھے 
چراغ بستی سے جا رہے تھے 


یتیم لگنے لگی تھی چھاؤں 
پرند وحشت منا رہے تھے 


جمی تھی گرد آئنوں کے اوپر 
ہم اپنی آنکھیں چھپا رہے تھے 


صدائے گریہ تھی باغ میں اور 
درخت پونجی لٹا رہے تھے 


صحیفے برسوں سے ان چھوئے تھے 
سو لوگ انکو بھلا  رہے تھے 


سرائے ویراں تھی اور مسافر 
نہ آ رہے تھے نہ جا رہے تھے 


جدید ہوتے گلی محلے 
قدیم منظر دکھا رہے تھے 


حویلیوں کے کواڑ مجھکو 
مری ہی دستک سنا رہے تھے 

ایک نا مکمل غزل

رشتہ جاں بحال بھی نئیں ہو
ہائے اس پر ملال بھی نئیں ہو؟


جی رہا ہوں کسی خیال کے تئیں
اور اگر وہ خیال بھی نئیں ہو؟


دل بضد ہو جواب سننے کو.
لب پہ لیکن سوال بھی نئیں ہو


اس سفر کی تھکان کیا کہیے
جس سفر کا مآل بھی نئیں ہو


عکس تیرا ہو چار سمتوں میں
کوئی تیری مثال بھی نئیں ہو


دل میں شوق نمو تو ہو لیکن
صحن کی دیکھ بھال بھی نئیں ہو


اپنی وحشت ہی بوجھ ہو جائے
دل پہ اتنا وبال بھی نئیں ہو


اک زمانہ ، کہ وجہ حیرت تھے
خیر ، اب تو خیال بھی نئیں ہو


معتبر ہو اگر مرا گریہ
جسم تو جسم کھال بھی نئیں ہو


رخت امید ہو بندھا میرا
اور سفر کی مجال بھی نئیں ہو




حماد نیازی

ایک مسلسل غزل


گلی کا منظر بدل رہا تھا 
قدیم سورج نکل رہا تھا 


ستارے حیران ہو رہے تھے 
چراغ مٹی سے جل رہا تھا 


دکھائی دینے لگی تھی خوشبو 
میں پھول آنکھوں پہ مل رہا تھا 


گھڑے میں تسبیح کرتا پانی 
وضو کی خاطر اچھل رہا تھا 


شفیق پوروں کا لمس پا کر 
بدن صحیفے میں ڈھل رہا تھا


 دعائیں کھڑکی سے جھانکتی تھیں 
جب اپنے گھر سے نکل رہا تھا 


ضعیف انگلی کو تھام کر میں 
بڑی سہولت سے چل رہا تھا 


عجیب حسرت سے دیکھتا ہوں 
میں جن مکانوں میں کل رہا تھا