نجانے کون سی وحشت سے بھر گیا ہوں میں
گل سفید کو چھوتے ہی ڈر گیا ہوں میں
کہیں دکھائی نہیں دے رہا ہوں خود کو بھی
تمہاری حد سے نکل کر کدھر گیا ہوں میں
تمام عمر یہی اک گلہ رہا خود سے
تمام فیصلے عجلت میں کر گیا ہوں میں
سفر سفر کوئی رہتا تھا ساتھ ساتھ مرے
مگر یہ شام کہ تنہا ہی گھر گیا ہوں میں
مراجعت پہ تہی دست ہوں مگر خوش ہوں
گل دعا تری چوکھٹ پہ دھر گیا ہوں میں
بدن کے قصر ملامت سے دور جاتے ہوے
تری طرف ہی گیا ہوں اگر گیا ہوں میں
اسے پکار رہا ہوں بڑے تسلسل سے
یہ اور بات کہ بیحد بکھر گیا ہوں میں
دھلی ہوئی تھی سڑک خامشی کی بارش میں
"میں خود سے پوچھ رہا تھا ''ادھر گیا ہوں میں
مجھے یقین ہے ،شاید، نہیں یقین مجھے
میں مر رہا ہوں ،نہیں یار ! مر گیا ہوں میں
No comments:
Post a Comment