Tuesday, January 17, 2012

وحشت


نجانے کون سی وحشت سے بھر گیا ہوں میں 
گل سفید کو چھوتے ہی ڈر گیا ہوں میں 


کہیں دکھائی نہیں دے رہا ہوں خود کو بھی 
تمہاری حد سے نکل کر کدھر گیا ہوں میں 


تمام عمر یہی اک گلہ رہا خود سے
تمام فیصلے عجلت میں کر گیا ہوں میں 


سفر سفر کوئی رہتا تھا ساتھ ساتھ مرے 
مگر یہ شام کہ تنہا ہی گھر گیا ہوں میں 


مراجعت پہ تہی دست ہوں مگر خوش ہوں 
گل دعا تری چوکھٹ پہ دھر گیا ہوں میں 


بدن کے قصر ملامت سے دور جاتے ہوے
تری طرف ہی گیا ہوں اگر گیا ہوں میں


اسے پکار رہا ہوں بڑے تسلسل سے
یہ اور بات کہ بیحد بکھر گیا ہوں میں


دھلی ہوئی تھی سڑک خامشی کی بارش میں 
"میں خود سے پوچھ رہا تھا ''ادھر گیا ہوں میں  


مجھے یقین ہے ،شاید، نہیں یقین مجھے 
میں مر رہا ہوں ،نہیں یار ! مر گیا ہوں میں 

No comments:

Post a Comment