Friday, January 6, 2012

کمرہ


اک کمرہ ہے 
اک خستہ بوسیدہ کمرہ
جسکی دیواروں پر چسپاں  
ٹوٹے خوابوں کی تصویریں  
تنہائی کو سینچ رہی ہیں 
خاک پہ لتھڑے فرش پہ لیٹی
صدیوں کے ابہام کی چادر  
گھور رہی ہے 
کونے میں احساس  کے ٹوٹے پھوٹے برتن 
گزرے وقت کی راکھ سمیٹے چپ بیٹھے ہیں 
الماری میں یادوں کی دو چار کتابیں پڑی ہوئی ہیں 
جن کو ہجر کی کالی دیمک رفتہ رفتہ چاٹ رہی ہے 
میز پہ رکھی لفظ کی گٹھڑی 
جس میں بند غموں کے نشتر  
اب تک سانس لئے جاتے ہیں 
بے تابی کے جالے بنتی 
وقت کی مکڑی 
دیواروں پر رینگ رہی ہے 
اشکوں کے دریا میں ڈوبا سانس کا تکیہ بھیگ رہا ہے 
ایک  ضعیف دعا کا پنکھا 
چھت پر اب بھی جھول رہا ہے 
بچپن کے صندوق میں بکھرے خواب کے کپڑے 
تعبیروں کے لمس کی خاطر 
درد کا گردا پھانک رہے ہیں 
روشن مستقبل کی کھڑکی 
اک عرصے سے بند پڑی ہے 
جبکہ دروازے پر لٹکا 
بن چابی کے 
خاموشی کا کالا تالہ
آس لگائے دیکھ رہا ہے !!... 
خوشیوں کے گمنام مسافر کب لوٹیں گے 
کب لوٹیں گے 

No comments:

Post a Comment