اک کمرہ ہے
اک خستہ بوسیدہ کمرہ
جسکی دیواروں پر چسپاں
ٹوٹے خوابوں کی تصویریں
تنہائی کو سینچ رہی ہیں
خاک پہ لتھڑے فرش پہ لیٹی
صدیوں کے ابہام کی چادر
گھور رہی ہے
کونے میں احساس کے ٹوٹے پھوٹے برتن
گزرے وقت کی راکھ سمیٹے چپ بیٹھے ہیں
الماری میں یادوں کی دو چار کتابیں پڑی ہوئی ہیں
جن کو ہجر کی کالی دیمک رفتہ رفتہ چاٹ رہی ہے
میز پہ رکھی لفظ کی گٹھڑی
جس میں بند غموں کے نشتر
اب تک سانس لئے جاتے ہیں
بے تابی کے جالے بنتی
وقت کی مکڑی
دیواروں پر رینگ رہی ہے
اشکوں کے دریا میں ڈوبا سانس کا تکیہ بھیگ رہا ہے
ایک ضعیف دعا کا پنکھا
چھت پر اب بھی جھول رہا ہے
بچپن کے صندوق میں بکھرے خواب کے کپڑے
تعبیروں کے لمس کی خاطر
درد کا گردا پھانک رہے ہیں
روشن مستقبل کی کھڑکی
اک عرصے سے بند پڑی ہے
جبکہ دروازے پر لٹکا
بن چابی کے
خاموشی کا کالا تالہ
آس لگائے دیکھ رہا ہے !!...
خوشیوں کے گمنام مسافر کب لوٹیں گے
کب لوٹیں گے
No comments:
Post a Comment