Sunday, December 18, 2011

کچھ اپنوں کے نام


وہ نگہ جب مجھے پکارتی تھی
دل کی حیرانیاں ابھارتی تھی

اپنی نادیدہ انگلیوں کے ساتھ
میرے بالوں کو وہ سنوارتی تھی

روز میں اسکو جیت جاتا تھا
اور وہ روزخود کو   ہارتی تھی

پتیاں مسکرانے لگتی تھیں
شاخ سے پھول جب اتارتی تھی

جن دنوں میں اسے پکارتا تھا
ایک دنیا مجھے پکارتی تھی

صحن میں چھاؤں تھی درختوں کی
جو مری شاعری نکھارتی تھی

بارگاہوں میں غسل گریہ سے
روح اپنی تھکن اتارتی تھی

اک لگن تھی،چبھن تھی جو بھی تھی
روز سینے میں دن گزارتی تھی

No comments:

Post a Comment