رائیگاں جسم کی شریعت سے
تھک گیا ہوں میں اس ریاضت سے
میری آواز کیوں نہیں آتی
چیخ اٹھتا ہوں جب مسرّت سے
راستہ مل گیا حویلی کا
اپنے ہونے کی ایک صورت سے
دل نے دنیا خرید لینی تھی
سانس لیتا اگر سہولت سے
میں بھی کتنا عجیب دکھتا ہوں
آج دیکھا ہے خود کو حیرت سے
"ہاے وہ لوگ خوبصورت لوگ "
جن کو دیکھا نہیں ہے مدت سے
آنکھ کھلنے لگی زمینوں کی
گندمی دھوپ کی تمازت سے
رنگ جاگے سفید آنکھوں میں
شاخ پر پھول کی تلاوت سے
جس محبّت سے پیڑ دیکھتے ہیں
کوئی دیکھے تو اس محبّت سے
یہ پرندے یہ ہجرتوں کے سفیر
اڑ رہے ہیں فقط ضرورت سے
گرتے جاتے ہیں پھول مٹی پر
کوئی چنتا نہیں عقیدت سے
کار دیگر تمام کرتے ہیں
آج روتے ہیں پوری شدّت سے
دیکھئے ،اک نظر تو دیکھئے نا
بجھ رہا ہوں میں کس اذیّت سے
بس دلا ،آخری کلام،سلام
تنگ آیا میں تجھ مصیبت سے
No comments:
Post a Comment