بیقراروں کی طرح اور سوگواروں کی طرح
وہ نگاہیں لگ رہیں تھی آبشاروں کی طرح
اب وہاں پر کوئی کھڑکی کوئی دروازہ نہ تھا
شور تھا چڑیوں کا گھر میں یادگاروں کی طرح
میں درختوں کی طرح سہما کھڑا تھا دشت میں
کوئی مجھکو دیکھتا تھا کوہساروں کی طرح
دل کی ویرانی مسلسل دستکیں دیتی رہی
میں نے دروازہ نہ کھولا اپنے یاروں کی طرح
خود کو اپنی آنکھ سے کل رات میں دیکھا کیا
دور سے میں لگ رہا تھا ریگزاروں کی طرح
اسکے قدموں کا فقط اک لمس تھا جسکے طفیل
ریت کے ذرے چمکتے تھے ستاروں کی طرح
باغ نادیدہ کھلے گا آخرش ہم پر کبھی
منظر خوش رنگ وا ہوگا سپاروں کی طرح
No comments:
Post a Comment