Sunday, December 18, 2011

مانوس جبینوں کے نام


بیقراروں کی طرح اور سوگواروں کی طرح 
وہ نگاہیں لگ رہیں تھی آبشاروں کی طرح 

اب وہاں پر کوئی کھڑکی کوئی دروازہ نہ تھا 
شور تھا چڑیوں کا گھر میں یادگاروں کی طرح 

میں درختوں کی طرح سہما کھڑا تھا دشت میں 
کوئی مجھکو دیکھتا تھا کوہساروں کی طرح 

دل کی ویرانی مسلسل دستکیں دیتی رہی  
میں نے دروازہ نہ کھولا اپنے یاروں کی طرح 

خود کو اپنی آنکھ سے کل رات میں دیکھا کیا  
دور سے میں لگ رہا تھا ریگزاروں کی طرح 

اسکے قدموں کا فقط اک لمس تھا جسکے طفیل 
ریت کے ذرے چمکتے تھے ستاروں کی طرح 

باغ نادیدہ کھلے گا آخرش ہم پر کبھی 
منظر خوش رنگ وا ہوگا سپاروں کی طرح 

No comments:

Post a Comment